ابنا: اقوام متحدہ ميں چين کے مندوب اور سلامتي کونسل کے موجودہ سربراہ لي باؤ دانگ نے اخبار نويسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلامتي کونسل کے اراکين نے شام کے موجودہ حالات کے بارے ميں بين الاقوامي مشاہدين کے سربراہ رابرٹ موڈ کي رپورٹ سني اور اس ملک ميں جاري بدامني کي مذمت کي- انہوں نے شام ميں اثر و رسوخ رکھنے والے تمام ممالک سے اپيل کي کہ وہ اس ملک کے بحران کو ختم کرنے اور کوفي عنان کے منصوبے کو کامياب بنانے کے ليے ہر ممکن کوشش کريں- اقوام متحدہ ميں چين کے نمائندے نے اسي طرح شام ميں حکومت مخالف گروہوں کے علاوہ ايک تيسرے محاذ کي موجودگي اور اس محاذ کے دہشتگردوں کي جانب سے بدامني پھيلائے جانے کي جانب اشارہ کيا اور کہا کہ ہميں اس بات کي تشويش ہے کہ شام ميں بدامني پھيلنے سے علاقے کے ديگر ممالک ميں بھي امن و امان کي صورتحال بگڑ جائے گي- لي باؤ دانگ نے کہا کہ ہم شام ميں ہمہ گير مذاکرات کے آغاز کے ليے مثبت ماحول تيار کيے جانے کے خواہاں ہيں تاکہ اس ملک کے بحران کو جلد از جلد ختم کيا جا سکے- انہوں نے اسي طرح حمص شہر کے واقعات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے ميں کچھ بھي کہنے کے ليے مزيد تحقيقات اور وقت کي ضرورت ہے
ادھر اقوام متحدہ کے نائب سيکريٹري جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ نے شام ميں اپنے مشاہدين کي موجودگي جاري رکھنے کا فيصلہ کيا ہے- امن محافظ کارروائيوں کے امور ميں اقوام متحدہ کے نائب سيکريٹري جنرل اروہ لادسوس نے اخبار نويسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ، شام ميں اپنے مشاہدين کي موجودگي کي مدت ميں اضافہ کرنا چاہتي ہے اور اس وقت بعض ممکنہ تغيرات کا جائزہ ليا جا رہا ہے- ادھر شام ميں اقوام متحدہ کے بين الاقوامي مشاہدين کے سربراہ رابرٹ موڈ نے بھي کہا ہے کہ مشاہدين اخلاقي لحاظ سے شام ميں اپني موجودگي کو تب تک ضروري سمجھتے ہيں جب تک اس ملک کے سلسلے ميں مطلوبہ نتائج حاصل نہيں ہو جاتے- انہوں نے کہا کہ شام کي حکومت نے ملک ميں امن و امان کے قيام کے ليے کوششيں کرنے اور مشاہدين کو آزادي کے ساتھ کام کرنے کي اجازت دينے پر تاکيد کي ہے تاہم مسلح مخالفين نے اس سلسلے ميں اب تک کوئي ردعمل ظاہر نہيں کيا ہے
دريں اثنا روس کے صدر نے شام کے سلسلے ميں ماسکو کے موقف کا ايک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے، اس ملک کے داخلي امور ميں بعض ممالک کي مداخلت کي مذمت کي ہے- ولاديمير پوتين نے ميکسکو ميں ايک پريس کانفرنس ميں کہا کہ کسي بھي ملک کو شام کے داخلي امور ميں مداخلت اور اس ملک ميں حکومت کي تبديلي کے بارے ميں فيصلہ کرنے کا حق نہيں ہے- انہوں نے کہا کہ کسي کو بھي يہ حق نہيں ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کے اعلي حکام کے اقتدار ميں رہنے يا نہ رہنے کے بارے ميں فيصلہ کرے- پوتين نے اسي طرح شام ميں تشدد کے خاتمے کے ليے فريقين کے درميان مذاکرات شروع کيے جانے پر زور ديا
امريکا کے صدر نے بھي اس بات کا اعتراف کيا ہےکہ روس اور چين، شام کے صدر کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے مخالف ہيں- باراک اوباما نے ميکسکو ميں گروپ ٹوينٹي کے سربراہي اجلاس کے موقع پر کہا کہ وہ طويل بات چيت کے باوجود چين اور روس کے سربراہوں کو اس بات کے ليے تيار کرنے ميں کامياب نہيں ہو سکے ہيں کہ بشار اسد کو اقتدار سے ہٹا ديا جائے
واضح رہے کہ بيجنگ اور ماسکو نے اب تک دو بار اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل ميں شام کے خلاف پيش کي جانے والي قراردادوں کو ويٹو کيا ہے- اس کے مقابلے ميں مغربي ممالک اور ان کے حليف بدستور اس بات کي کوشش کر رہے ہيں کہ روس اور چين کو، شام ميں فوجي مداخلت کے ليے تيار کر ليں-.......
/169